حوزہ نیوز ایجنسی |
تحریر: مولانا سید صفدر حسین زیدی، مدیر جامعہ امام جعفر صادقؑ، جونپور
تجارت کی ابتدا اور قدیم تاریخ
تجارت انسانی تہذیب کی شروعات سے ہی موجود ہے۔ جب انسان نے زرعی زندگی اختیار کی تو سامان کے بدلے سامان شروع ہوا۔ چین، ایران، مصر اور روم میں 3000 قبل مسیح سے باقاعدہ تجارت کے آثار ملتے ہیں۔ سکّوں کا رواج تقریباً ساتویں صدی قبل مسیح میں لائیڈیا (Lydia) میں ہوا۔ Herodotus: The Histories)
مکہ ایک عظیم تجارتی مرکز
جناب خدیجہؑ سے پہلے مکہ ایک اہم تجارتی مرکز تھا۔ قریش کے قافلے یمن اور شام تک جاتے تھے۔ عرب لوگ رومی اور فارسی سلطنتوں کے درمیان ایک تجارتی پل کا کردار ادا کرتے تھے۔جیسا کہ خود قرآن کریم،کی سورہ قریش رحلۃ الشتاء والصیف میں موجود ہے۔
حضرت خدیجہؑ کی تجارتی حیثیت
آپ اسلام سے پہلے مکہ کی سب سے بڑی اور معزز مشہور تاجرہ تھیں۔ آپ کا سرمایہ شام اور یمن تک پھیلا تھا۔
آپکی تجارتی خصوصیات:
1۔وسیع سرمایہ پورے قریش کے برابر
2۔بین الاقوامی نیٹ ورک
3۔مضاربت یعنی نفع میں شراکت کا منظم نظام
4۔دیانت اور حسنِ سلوک کی شہرت
(الاصابہ فی تمییز الصحابہ، ابن حجر مکی)
رسول اللہ (ص) کی صداقت اور برکت
ایک بار آپ نے حضور اکرم (ص) کو اپنے مال کے ساتھ تجارت پر بھیجا۔ آنحضرت کی امانتداری و دیانت سے غیر معمولی نفع حاصل ہوا اور آپ کی شہرت پوری عرب دنیا میں پھیل گئی۔ (تاریخ طبری، جلد 2)
اسلام کی مالی بنیاد اور ایثار
آپؑ نے اپنی تمام دولت اسلام کی تبلیغ اور مسلمانوں کی ضرورتوں کے لیے وقف کر دی۔ رسول اللہ (ص) نے فرمایا خدیجہ نے اس وقت میرا ساتھ دیا جب دنیا نے مجھے چھوڑ دیا تھا اور اپنا مال مجھ پر نثار کر دیا۔ (مستدرک علی الصحیحین، حاکم نیشاپوری)
شعبِ ابی طالب اور عام الحزن
آپؑ نے 3 سال تک شعبِ ابی طالب کے محاصرے میں سختیاں جھیلیں، یہاں تک کہ فاقوں کی وجہ سے پتے اور چمڑے تک کھائے جسکی وجہ سےرہائی کے بعد آپ شدید کمزور ہو گئیں اور 10 رمضان کو وفات پا گئیں۔ اسی سال حضرت ابوطالبؑ نے بھی وفات پائی، چنانچہ رسول اللہ ص نے اس سال کو عام الحزن(غم کا سال) قرار دیا۔ (تاریخ یعقوبی / البدایہ والنہایہ)
مدفنِ اقدس
آپؑ کی قبر مبارک مکہ کی سر زمین جنت المعلیٰ (الحجون) میں موجود ہے، جو رہتی دنیا تک مسلمانوں کی زیارت گاہ ہے۔
اخبار مکہ، الازرقی
شہزادی کی حیات طیبہ سے اس ماڈرن زمانے کے مرد و عورتوں کو درس لیکر بزنس میں ترقی کی طرف جی جان سے لگ جانا چاہئے تاکہ سب کی مدد کے لائق بن جائیں دنیا میں جب تک سانس ہے اس ھدف سے وابستہ دہیں اوراسلام و مسلمانوں کی مدد کرنا اپنا مقصد بنالیں۔ اس سلسلہ میں کسی کی ملامت مذاق بنانے کو قطعی خاطر میں نہ لائیں کیونکہ اللہ نے منفعت کا 9حصہ کاروبار تجارت ۔یں رکھا ہے اور دوسرے تمام کاموں میں صرف ایک ہی حصہ قرار دیا ہے۔ اللہ ہم سب کو دل سے تجارت کرنے کی ترغیب و توفیق عطا فرمائے۔ (اخبار مکہ، الازرقی)
سلام ہو آپ پر اے شہزادی محسنہِ اسلام، آپ کی قربانیاں رہتی دنیا تک یاد رکھی جائیں گی۔









آپ کا تبصرہ